ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جی ایس ٹی سے ختم ہوگی نمبر 2کی تجارت: گڈکری

جی ایس ٹی سے ختم ہوگی نمبر 2کی تجارت: گڈکری

Sat, 01 Jul 2017 10:33:23    S.O. News Service

نئی دہلی،30؍جون(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مرکزی روڈ ٹرانسپورٹ وزیر نتن گڈکری نے کہا کہ جی ایس ٹی کے ذریعے ہم معیشت کو نمبر ایک پر لا رہے ہیں اور اس سے بزنس میں نمبر دو کا کام کرنے والے ختم ہوں گے۔گڈکری جی ایس ٹی کانکلیو کے پانچویں سیشن جی ایس ٹی دوسرا آن ٹیکس ہائی وے میں سوالات کا جواب دے رہے تھے۔گڈکری نے جی ایس ٹی سے مہنگائی بڑھنے کے اندیشے کو مسترد کیا اور کہا کہ جن چیزوں پر 28فیصد ٹیکس لگا ہے ان میں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ اب تک ان پر 17ٹیکس اور 22فیصد سیس ملا کر کل کتنا ٹیکس لگتا تھا،اگر دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے تبھی کہا جا سکتا ہے کہ جی ایس ٹی سے وہ چیز مہنگی ہوگی۔گڈکری نے کہا کہ ہم میڈیا کے دباؤ میں کام نہیں کریں گے، کسی سیکٹر کے دباؤ میں کام نہیں کریں گے،تاجر بھائی دو ماہ انتظار کریں،اگر تکلیف آئی تو ہمارے پاس آئیں،یہ آغاز ہے،ہماری بھی اگر کوئی غلطی ہو گی تو سدھاریں گے۔

گڈکری نے کہا کہ ریاستوں کو پیٹرول ڈیزل اور شراب کو جی ایس ٹی کے دائرے میں لانے میں دقت ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اگر یہ چیزیں بھی جی ایس ٹی کے دائرے میں آئیں گی تو ریاستوں کو اب اس سے جتنا پیسہ ملتا ہے، اس سے زیادہ ملے گا۔گڈکری نے کہا کہ جی ایس ٹی کے ذریعے حکومت نے 17ٹیکس اور 22سیس ختم کئے ہیں۔گڈکری نے کھانے کی بھری چیزوں پر ٹیکس بڑھنے کے معاملے پر کہا کہ ملک کا پسماندہ طبقہ اوردرمیانی طبقہ پیک فوڈ استعمال نہیں کرتا ہے ۔اعلی طبقے میں ہی اس کا استعمال ہے،لہذا غریب آدمی کی پلیٹ پر جی ایس ٹی کوئی منفی اثر ڈالے گی ایسا کہنا صحیح نہیں ہوگا۔

گڈکری نے کہا کہ ہم غیر ملکی سرمایہ کاری چاہتے ہیں لیکن ان سیکٹروں میں چاہتے ہیں جہاں ہم خود نہیں ہیں جیسے انفراسٹرکچر۔ہمیں میک ان انڈیا، میڈ ان انڈیا کو بھی دیکھنا ہے اور ملک کی کمپنیوں کو فروغ دینا ہے جو کہیں سے بھی غلط نہیں ہے۔

کانگریس اور کچھ دیگر جماعتوں کے آج کے پروگرام کا بائیکاٹ کرنے کے معاملے پر گڈکری نے کہا کہ کچھ باتیں برداشت نہیں ہوتیں اور بول بھی نہیں سکتے،ہم لوگوں نے اچھا کام کیا تو کانگریس تعریف تو کر نہیں سکتی۔اسے سمجھنا چاہئے کہ جی ایس ٹی صرف بی جے پی اور این ڈی اے کی دین نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی ایک پارٹی کا ایجنڈا ہے۔یہ ملک کے مفاد میں ہے، کچھ لوگ سیاسی طور پر بے روزگار ہوئے ہیں اس لئے ان کی مجبوری ہے مخالفت کرنا، انہیں چھوڑ دینا چاہئے۔


Share: